مرے ہاتھوں میں محبت کی لکیریں ہی نہیں۔شاہین

Poet: Shaheen Mughal By: Shaheen Mughal, gjn

آنسوؤں کے جو مری آنکھ سے دھارے نکلے
زخم سینے میں تھے جتنے وہ ہمارے نکلے

تم لب بام کھڑے تھے تو یہ محسوس ہوا
تری محفل سے سبھی کرب کے مارے نکلے۔

باندھ رکھا ہمیں دریا کی کئی موجوں نے
اتنے کم ظرف بھی کیوں تیرے کنارے نکلے

چاند جب صحن تخیل میں کبھی اترا ہے
میری آنکھوں سے محبت کے ستارے نکلے

ہم نے اس دل کے سوا چین بھی کھو یا اپنا
کتنے احسان میرے دل پہ تمہارے نکلے

صرف میں ہی نہیں حیرت میں ہے آئینہ بھی
مرے اندر سے سبھی عکس تمہارے نکلے

مرے ہاتھوں میں محبت کی لکیریں ہی، نہیں
ایسی حالت میں سبھی دوش ہمارے نکلے

Rate it:
Views: 470
02 Jan, 2016
More Sad Poetry