مرے ہاتھ میں ہے کہ مغرور کر دوں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلامرے ہاتھ میں ہے کہ مغرور کر دوں
میں چاہوں تو دل تجھ کو رنجور کر دوں
میں بن کر ہوا پھر سے خوشبو کی مانند
دلوں کے شجر کو تو مسرور کر دوں
ابھی مت سناؤ یہ جنت کے قصے
میں جیون میں خود کو تری حور کر دوں
نگاہوں میں بس جائے جلوہ تمہارا
سیاہی شبِ ہجر کی نور کر دوں
مری کج کلاہی سے نا آشنا ہے
اسے خود سے کیسے ابھی دور کر دوں
مرا ساتھ دے تو میں دنیا میں ہر سو
یہ رائج وفاؤں کا دستور کر دوں
ترے ذہن میں ہے تکدر تو وشمہ
زمانے کو خوشیوں سے کافور کر دوں؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






