مسکراہٹ میرے ہونٹوں کی وہ سب چھین گئے
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanدل میں غم اور سسکتے ہوئے جذبات رہے
وہ جو بچھڑا تو پریشان خیالات رہے
اس نے جانا تھا ، اسے روکنا ممکن ہی نہ تھا
کس قدر تلخ جدائی کے وہ لمحات رہے
جس جگہ بھی میں رہا تیری کمی ساتھ رہی
ویسے کٹنے کو تو کٹتے مرے دن رات رہے
میری آنکھوں سے مرا حال بیاں ہونے لگا
آنکھ کہہ دیتی ہے دل میں جو چھپی بات رہے
تجھ سے اک عہد کیا تھا جو نبھا نہ پایا
کیسے بتلاؤں کہ کیسے مرے حالات رہے
بعد مدت کے مجھے دیکھ کے حیرت کیسی ؟
ہجر کے بھی تو مرے چہرے پہ اثرات رہے
مسکراہٹ مرے ہونٹوں کی وہ سب چھین گئے
جو بڑے سخت مری زیست میں صدمات رہے
حاصل عشق زمانے میں یہی ہے زاہد
دل میں اک درد رہے ، آنکھوں میں برسات رہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






