معشوق سی کویٔ میر ے پاے ٔ نظر کہاں
Poet: Asghar Azimabadi By: Syed Asghar Hussain, Patnaمعشوق سی کویٔ میر ے پاے ٔ نظر کہاں
اب ہم ہیں متمعین کے بنایٔنگے گھر کہاں
جب بھی نگاہِ شوق اُٹھایٔ جدھر جہاں
آیٔ نظر تھی توُ ہی پر آیٔ نظر کہاں
چاہا بہت یہ ہمنے نگاہوں سے کچھ کہیںٔ
پر جانتا ہی میں تھا زبانِ نظر کہاں
اُلفت کی شمع میں نے جلا لی تو ہے مگر
شعلوں پہ ہوگا چلنا یہ جانا مگر کہاں
چاہا بہت کے عشق کی وادی کو چھوڑ دؤں
پر عشق کو میں چھوڑنے جاؤں کدھر کہاں
گردش کو تو قسمت میں ہی لکھوا چکا ہو ں میں
بچنے کو اِس سے اور میں کرتا سفر کہاں
مانا کہ تم سے عشق کیا بھو ل ہو گیٔ
پر تم نے بھی ستانے میں رکھّی کسر کہاں
منزل کی چاہ میں تو چلے جا ر ہے ہیں ہم
پر دیکھے ٔ کہ ہوتا ہے ختمِ سفر کہاں
کہتے ہیں لوگ مجھکو کہ دیوانہ ہو گیا
پر اب مجھے ہی میری بھلا ہے خبر کہاں
گم نام اندھیروں میں میں ٔ بد نام ہو گیا
پر جانے کس نے کسکو بتایا کدھر کہاں
کیسے یقین کر لوں کہ تم بے وفا نہ تھے
ایک بار بھی تو تم بھلا آے ٔ اِدھر کہاں
اب چاہتا ہوں عشق کی وادی کو چھوڑ دوں
مچھلی ہوں پانی چھوڑ کے جاؤں مگر کہاں
جانے کو میں دنیا سے ہوں بے چین اسلیے
رہنے کو کویٔ بھی ہے بچا اب شہر کہاں
رہنے کو نشمین کی ضرورت سبھی کو ہے
پر ہے کسی کے پاس میرے جیسا گھر کہاں
بے با ک نگاہوں کی بے چو ک نظر سے
میں بچ کے نکل جاؤ ں ہے ایسی سپر کہاں
اے کلک روک جا تو وہی اصغرؔ کے ہاتھ میں
اب تیری زباں میں بھی رہا وہ اسر کہاں
راہِ نیکی میں تو سچے لوگ بھی ٹوٹ جاتے ہیں
دوست جو ساتھ تھے کبھی نڈر ہمارے اے میاں
وقت کے ساتھ وہ سبھی ہم سے اب چھوٹ جاتے ہیں
ہم چھپائیں کس طرح سے اب محبت کا اثر
دل کے گوشوں سے وہ جذبے خود ہی اب پھوٹ جاتے ہیں
کچھ جو خوابوں کے نگر میں لوگ تھے نکھرے ہوئے
ہو کے بکھرے وہ ہوا کے ساتھ ہی لوٹ جاتے ہیں
جو کیے تھے ہم نے دل کے اس سفر میں وعدے سب
وقت کی قید میں وہ سارے ہم سے اب روٹھ جاتے ہیں
پھول کی خوش بو کی صورت تھی ہماری یہ وفا
یاد کے عالم میں اب وہ سب ہی بس چھوٹ جاتے ہیں
مظہرؔ اب کہتے ہیں یہ سب ہی فسانے پیار کے
کچھ حسیں لمحے بھی دل سے اب تو اتر جاتے ہیں
خواب بکھرے ہیں مرے اس دل کے ہی ویرانے میں
ہم کو تنہا کر دیا احساس کی اس دنیا نے
جیتے ہیں ہم جیسے جلتے ہوں کسی پیمانے میں
ہر قدم ٹھوکر ملی ہے، ہر جگہ دھوکا ملا
پھر بھی تیری یاد آئی ہے ہمیں زمانے میں
اپنے ہی گھر سے ملے ہیں ہم کو اتنے دکھ یہاں
بے وفا نکلے سبھی رشتے اسی خزانے میں
شمعِ امید اب تو آہستہ سے بجھنے لگی ہے
آگ سی اک لگ گئی ہے دل کے اس کاشانے میں
ہر سخن خاموش تھا اور ہر زباں تنہا ملی
غم ہی غم گونجا ہے اب تو بھیگے ہر ترانے میں
دل جسے سمجھا تھا اپنا سب ہی کچھ اے مظہرؔ
اب وہ بھی تو مل نہ سکا ہم کو کسی بہانے میں
نیک سیرت لوگ ہی دنیا میں روشن ہوتے ہیں
جس کی گفتار و عمل میں ہو مہک اخلاق کی
ایسے ہی انسان تو گویا کہ گلشن ہوتے ہیں
نرم لہجہ ہی بناتا ہے دلوں میں اپنی جگہ
میٹھے بول ہی تو ہر اک دل کا مسکن ہوتے ہیں
جن کے دامن میں چھپی ہو عجز و الفت کی ضیا
وہی تو اس دہر میں پاکیزہ دامن ہوتے ہیں
بات کرنے سے ہی کھلتا ہے کسی کا مرتبہ
لفظ ہی تو آدمی کے دل کا درپن ہوتے ہیں
جو جلاتے ہیں وفا کے دیپ ہر اک موڑ پر
وہی تو اس تیرگی میں نورِ ایمن ہوتے ہیں
تلخ باتوں سے تو بس پیدا ہوں دوریاں سدا
اچھے الفاظ ہی تو الفت کا کندن ہوتے ہیں
مظہرؔ اب اپنے سخن سے تم مہکا دو یہ جہاں
اہلِ دانش ہی تو علم و فن کا خرمن ہوتے ہیں
وقت آئے گا تو سورج کو بھی رَستہ دِکھا دیں
اَپنی ہستی کو مٹایا ہے بڑی مُشکل سے
خاک سے اُٹھیں تو دُنیا کو ہی گُلشن بنا دیں
ظُلمتِ شب سے ڈرایا نہ کرو تم ہم کو
ہم وہ جگنو ہیں جو صحرا میں بھی شَمعیں جلَا دیں
اَہلِ دُنیا ہمیں کمزور نہ سمجھیں ہرگز ہم وہ
طُوفاں ہیں جو پل بھر میں ہی بَستی مِٹا دیں
خامشی اپنی علامَت ہے بڑی طاقت کی
لَب ہلیں اپنے تو سوئے ہوئے فتنے جگا دیں
ہم نے سیکھا ہے سَدا صَبر و قناعت کرنا
وَرنہ چاہیں تو سِتاروں سے ہی مَحفل سَجا دیں
راہِ حق میں جو قدم اپنے نِکل پڑتے ہیں
پھر تو ہم کوہ و بیاباں کو بھی رَستہ دِکھا دیں
مظہرؔ اَب اپنی حقیقت کو چھُپائے رَکھنا
وقت آئے گا تو ہم سَب کو تماشا دِکھا دیں






