ملا ہے کیسا ترے اعتبار کا موسم
Poet: احسان گھمن By: سارہ نوید, Karachiملا ہے کیسا ترے اعتبار کا موسم
کہ جیسے چاروں طرف ہے بہار کا موسم
اترتی جاتی ہیں کھیتوں میں یاد کی چڑیاں
نکھر رہا ہے مرے سبزہ زار کا موسم
کچھ ایسے موج صبا نے چھوا ہے گالوں کو
کہ دل میں کھلنے لگا برگ و بار کا موسم
نئی رتوں میں ملیں گے اسی جگہ ہم تم
سنبھال رکھنا مرے یار پیار کا موسم
نکھرتی دھوپ تھی اجلے تھے میرے شام و سحر
کہاں سے آیا ہے گرد و غبار کا موسم
ابھی تو اجلا ہے آنگن گلاب تازہ ہیں
گزر ہی جائے نہ قول و قرار کا موسم
کچھ اور کونپلیں پھوٹیں گی پھول آئیں گے
نیا نیا ہے ابھی شاخسار کا موسم
ہر ایک شاخ پہ چاندی ہے کھل رہی احسان
گلوں پہ آیا ہے سولہ سنگھار کا موسم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






