ملے گر آپ کو شوق پیام دیجئے گا
Poet: rizwana By: rizwana, torontoدل کی گلی میں کبھی قیام کیجیے گا
فرصت ہو گر تو ہم سے کلام کیجیے گا
خودی کو گنوا بیٹھے تلاش محبوب میں
ملے گر آپ کو شوق پیام دیجئے گا
کھلے گا نصیبہ اس روز اپنا بھی حبیب
حسن شوخ کے سنگ جو شام کیجیے گا
کوچ کر گے پنکھ پکھیرو جو شہر سے تیرے
نہ اس وقت صنم الزام دیجیے گا
حسیں رتیں جو گزریں قربت میں تیری
کؤی چراغ تابندہ انعام دیجیے گا
مہکتا رہےجو ہمیشہ گوشہ دل میں
محبت کو ایسا کؤی نام دیجیے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






