ممکن ہے تیری تجھ سے ملاقات کرا دوں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillکہتے ہیں جہاں والے کہ میں تم کو بھلا دوں
میں کیسے ہتھیلی کی لکیروں کو مٹا دوں
ڈر ہے زمین لرز ہی نہ جائے سوز سے
مژگاں پہ رکے اشک زمیں پر جو گرا دوں
ہیں میری دسترس میں خمر بھی خمار بھی
میں چاہوں تو ہر گام پہ میخانہ سجا دوں
آنے کا میرے شہر میں اک بار کہو تو
ہر راہگزر کو گل و گلزار بنا دوں
ممکن ہے تجھے زندگی کی سمجھ نہ آئے
ان آنکھوں میں جب تک نہ کوئی خواب سجادوں
پوچھے جو کوئی مجھ سے پتہ میری روح کا
میں اسکو تیری لرزتی سانسوں کا بتا دوں
اک بار میرے دل میں اتر کر تو دیکھ لو
مکن ہے تیری تجھ سے ملاقات کرا دوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






