موت تیری بانہوں میں آئے
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRGHAMخدا کرے کہ کچھ اثر میری دعاؤں میں آئے
جو موت بھی آئے تو تیری بانہوں میں آئے
جو رہ نموں بنے تھے زیست کے سفر میں
وہی ہم سفر چھوڑ کر راہوں میں آئے
تیرے سوا دنیا میں کوئی اپنا نہ تھا
اسی لیے تو ہم تیری پناہوں میں آئے
ہم تو وفا کے پتلے بنے رہے تمام عمر
کہیں ہمارا نام بےوفاؤں میں نہ آئے
جو کوئی بھی دیکھے ہے میری جانب
اسے میری آنکھوں میں تیری تصویر نظر آئے
ہر پل تجھے میرا دل یاد کرتا ہے جاناں
تیرےنام کی صدا اس کی دھڑکنوں میں آئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






