مَظلُوم پہ جو ظُلم رَوا ہونے لگا ہے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiمَظلُوم پہ جو ظُلم رَوا ہونے لگا ہے
ہر شخص ہی لگتا ہے خُدا ہونے لگا ہے
اِنسان ہی اِنسان کی ہے جان کا دُشمن
مولٰی تِری دُنیا میں یہ کیا ہونے لگا ہے
مُمکِن ہے بَرَس جاۓ یہ اسمان بھی گُونگا
مَظلُوم جو پھانسی کی سزا ہونے لگا ہے
آثار قیامت کے نَظَر آنے لگے ہیں
اِنسان جو اِنساں کا خُدا ہونے لگا ہے
پِهر آج ضرورت ہے حُسین اِبنِ علیؓ کی
اِنسان پہ پِهر ظُلم بڑا ہونے لگا ہے
مولٰی مُجھے ہمت دے کہیں ٹُوٹ نہ جاؤں
لگتا ہے وہ اب مُجھ سے جُدا ہونے لگا ہے
سِینے سے مِرے تُو اے غَمِ یار نکل جا
دِل قیدِ محبت سے رِہا ہونے لگا ہے
حیران ہوں باقرؔ تُو جو تھا ضَبط کا پیکر
محبُوب کا کیوں تُجھ سے گِلہ ہونے لگا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






