مَیں اُس کی نگاہِ ناز کا جب سے دیوانہ ہو گیا
Poet: JAFAR BASHIR JAFAR By: JAFAR BASHIR JAFAR, Al Khobar, Saudi Arabiaمَیں اُس کی نگاہِ ناز کا جب سے دیوانہ ہو گیا
زندگی جینے کا گویا اِک بہانہ ہو گیا
اُفتاں وخیزاں ترے کُوچے تلک پہنچا جو مَیں
اندازِ دل پھر سے وہی عاشقانہ ہوگیا
جب سے نکلے ہم تری محفل سے بے نیل ومرام
دشت ہی پھر تو مرا آشیانہ ہو گیا
دلِ شکستہ کے لئے مئے ناب بھی اب کُچھ نہیں
بے کیف ساقی اب ترا کیوں یہ مئے خانہ ہوگیا
اشک شوئی کے لئے آئے گا وہ سمجھا تھا مَیں
رقیبِ رُوسیا ہ کی طرف ہی وہ روانہ ہوگیا
تیری فُرقت میں مرا دَم گُھٹا جاتا ہے کیوں
ختم کیا میرا یہاں آب و دانہ ہو گیا
جعفرؔ جہدِ للبقا ہو اب یہاں کس کے لئے
تیرا تھا اپنا جو اب تک وہ بیگانہ ہوگیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






