مَیں ہر نظر کے اشاروں سے دور رہتا ہوں
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaمَیں ہر نظر کے اشاروں سے دور رہتا ہوں
قدم نہ روکیں مہاروں سے دور رہتا ہوں
مَیں خوش ہوں دیکھ کے ساحل کا دور سے منظر
بھنور کا ڈر ہے کناروں سے دور رہتا ہوں
حسیں جوان شراروں سے خوف آتا ہے
کہ جل نہ جاؤں شراروں سے دور رہتا ہوں
آواز دل کی شہر بھر میں عام ہو نہ کہیں
اسی لئے مَیں دیواروں سے دور رہتا ہوں
کہ احترامِ ولی میں نہ کوئی غلطی ہو
تو پیرِ عصر مزاروں سے دور رہتا ہوں
مَیں شہسوارِ غزل کی طرح نہ رُل جاوں
سررود و کیف کے دھاروں سے دور رہتا ہوں
مرا وہ ذوقِ محبت نہ پھر سے جاگ اٹھے
مَیں عشق و پیار کے ماروں سے دور رہتا ہوں
کہ ان کی یادیں خزاں میں نہ تنگ کرنےلگیں
چمن سے، گُل سے، بہاروں سے دور رہتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






