جب ہوا نیند سے بیدار بہت یاد آئی
Poet: zaigham jaffery dil By: zaigham jaffery, Daskaجب ہوا نیند سے بیدار بہت یاد آئی
تیری ہر بات مِرے یار بہت یاد آئی
تیرے بھولے ہوئے اقرار پہ رونا آیا
پھر تری شوخئی گفتار بہت یاد آئی
اپنی ہر بات منانے کی وہ معصوم ادا
تیری ہر جیت مری ہار بہت یاد آئی
ننگے پاوں تو مرے سامنے آئی جس دن
تیری پازیب کی چھنکار بہت یاد آئی
یاد آیا ہے مجھے آج وہ ماضی کا سماں
رونقِ گلشن و گلزار بہت یاد آئی
اس نے آنچل نہ اتارا تھا مرے کہنے پر
مجھ کو یہ صورتِ کردار بہت یاد آئی
ٹکٹکی باندھ کے بادل پہ ذرا غور کیا
زلفِ جاناں مجھے غمخوار بہت یاد آئی
جعفری جن سے ہوئے گھائل و مجروح بڑے
تیکھی نظروں کی وہ تلوار بہت یاد آئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






