مُجھے وُہ یوں ستاتے ہیں
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Al-Awan Town Attockمیں جب اُن سے کہتا ہوں
مجھے تم سے محبت ہے
نفی میں سر ہلاتے ہیں
نگاہوں کو جھکاتے ہیں
ہتھیلی سامنے رکھ کے
کسی کا نام لکھتے ہیں
مُٹھی بند کرتے ہیں
آنکھوں سے لگاتے ہیں
پھر اُس کو چوم لیتے ہیں
اچانک بول اُٹھتے ہیں
مُجھے اس سے محبت ہے
یہی تو میرا سب کچھ ہے
یہ سب کچھ سامنے پا کے
میں بے زار ہوتا ہوں
مُجھے بے زار پاتے ہیں
تو خود بھی رہ نہیں پاتے
مُٹھی کھول دیتے ہیں
جو مُٹھی کھول دیتے ہیں
میرا ہی نام ہوتا ہے
مُجھے وُہ یوں ستاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






