مگر یہ کیا ہوا ہم کو
Poet: rehan By: rehan abbas, lahoreتمہیں ہی سوچتے رہنا
بہت بے کار سے پھرنا
بڑے ہی سست سے ہو کر
خیالوں میں تجھے لا کر
کھٹولے پر پڑے رہنا
یہ عادت تو کبھی نہ تھی
کہ ہم تو زندگانی کے سمندر سے
دوانہ وار لڑتے تھے
بہائو کے مخالف بھی
بڑے گردے سے چلتے تھے
مگر یہ کیا ہوا ہم کو
کہ جب سے تم سے بچھڑے ہیں
یہ بازو ڈھیلے چھوڑے ہیں
سمندر سے یہ کہتے ہیں
ہمیں پاتال تک لے چل
کہ ہم نے موت سے پہلے
زمیں کی پستیوں کی آخری حدوں کو چھونا ہے
دل وحشی کا مفروضہ
کہ ہم کو ڈوبتا دیکھے تو شاید لوٹ آئے وہ
دلِ وحشی تو پہلے بھی
بہکتا تھا بھٹکتا تھا
مگر یہ کیا ہوا ہم کو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






