میرا خواب ہے
Poet: bilal Muard Warsi By: Bilal Murad Warsi, Karachiبے قراری ہجر ہے شدت کا اضطراب ہے
دھوپ ہے سایہ ہے نہ ہی سراب ہے
تیرے شہر میں گھومتا پھرا میں بےقرار
تیرا مکان میرے لئے ایک عذاب ہے
تو مجھ کو جہاں ملا جنت وہیں بنی
شعلہ ہے شبنم ہے یا کہ شراب ہے
اس کیلئے تو کوئی مسافت بھی طے نہ کی
زیست میں لکھا ہوا طویل باب ہے
نکہت رعنائے گل ضیائے شمس و قمر
دہر میں ملا مجھے یہ سحاب ہے
چشمہ شاداب سا سیرت حیات کردے
صورت میں اس کی ایسی اک کتاب ہے
اسی سروسمن اسی رنگ و بو میں بلال
کیف مستی و سخن نغمہ طراز عالی جناب ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






