میرا کَل
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiمجھے زخموں کو ہرا رکھنا ہے
وقت مرہم لیے گر آئے گا
وقت کے ہاتھ جھٹک دوں گا میں
دل تِرے غم سے بھرا رکھنا ہے
گر مسرت کوئی دستک دے گی
بند پائے گی مرا دروازہ
اب اندھیرے ہی رہیں گے مجھ میں
اک کرن بھی نہ گزرنے دوں گا
خود کو ویران بنا رکھوں گا
ایک آہٹ نہ ابھرنے دوں گا
اب سیہ پوشی پہ میری روح کے
سکھ کا پیوند نہ لگ پائے گا
میرے سینے میں اُداسی کا غبار
ایسا چھایا ہے نہ چھٹ پائے گا
تیری تصویر کی رونق کے سوا
میری آنکھیں ہیں دو ویراں خانے
کوئی خوش رنگ حسیں منظر میں
پُتلیوں میں نہ اُترنے دوں گا
تیری صورت ہی رہے گی دل میں
اور کوئی نہ ابھرنے دوں گا
دسترس میں ہے جو اک شہرِخیال
بس تصور کی ترے بستی ہے
حکمِ ہجرت ہے سبھی سوچوں کو
اب یہاں ہے تو تری ہستی ہے
میری تاعمر کی تنہائی میں
تری یادیں ترا چہرہ ہوگا
تو سمجھتی ہے کہ بھرسکتا ہے
زخم تو اور بھی گہرا ہوگا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






