کھوجاؤں گا۔۔۔۔۔

Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachi

دور ہوئے جس دن تم مجھ سے
اس سے پہلے
کہ تم
میری یادوں کے تصویر کدے سے باہر نکلو
اس سے پہلے
کہ تم
چھوڑ کے ہاتھ مرا
اس خالی ہاتھ کے لمس کو سونگھو
اس سے پہلے
کہ تم
مجھ کو ایک دفعہ بھی پلٹ کے دیکھو
اس سے پہلے
کہ تم
میرے اور تمھارے خوابوں کی دنیا سے نکلو
اس سے پہلے
کہ تم
مجھے بھلادینے کی دُھن میں جاناں
اور کسی سے ناتا جوڑو

کھوجاؤں گا
خود کو بھی ڈھونڈے نہ ملوں گا
یوں معدوم میں ہوجاؤں
جیسے کوئی ویران جزیرہ
پانی میں گُم ہوجاتا ہے
ریگستان کا ٹیلا کوئی
کھوجاتا ہے تیز ہوا میں
فلک میں تاباں کوئی ستارہ
ٹوٹ بکھر جاتا ہے فضا میں
جیسے اُجڑے پیڑ کا پنچھی
اُڑے تو پھر واپس نہ آئے
جیسے سمے کی لہر میں لمحہ
بہے تو پھر واپس نہ آئے
جیسے رات کے اندھیارے میں
دن کا اُجالا کھوجاتا ہے
جیسے کوئی مرنے والا
اوڑھ کے مٹی سوجاتا ہے

میں بھی یوں گُم ہوجاؤں گا
کھوجاؤں گا

ریت پہ راہ بناؤں گا میں
مل نہ سکیں گے نقش پا بھی
اتنی دور چلا جاؤں گا
جہاں نہ پہنچے کوئی سدا بھی

اپنے سارے لفظ جلاکر
نقش کھرچ کے سارے اپنے
اپنے سارے عکس مٹا کر
بُھولی کہانی ہوجاؤں گا
کھوجاؤں گا
 

Rate it:
Views: 570
20 Aug, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL