میرا ہر شعر مرا قطرہ ء خوں ہے یوں ہے
Poet: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی By: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی, houstonدست فرہاد ہے تیشہ ہے ستوں ہے یوں ہے
سر چڑھا عشق کا درپردہ فسوں ہے یوں ہے
مجھ کو تفصیل بتانے کی ضرورت ہی نہیں
مان جو لی ہے تری بات کہ یوں ہے یوں ہے
کس طرح کہدوں تقابل ہے چمن کا تجھ سے
تیری خوشبو توکہیں ان سے فزوں ہے یوں ہے
میں خرد کے بھی شکنجے سے نکل آیا ہوں
میری منزل کہیں بالائے جَنوں ہے یوں ہے
عشق کے شاہ کی آمد کا فسوں ہے شاید
حسن کی دیوی کا سر پھر سے نگوں ہے یوں ہے
یہ کسی ناگہاں طوفاں کی خبر ہے شاید
یہ جو دریا میں قیامت کا سکوں ہے یوں ہے
روح سے جسم کا ادغام نہیں ہے ممکن
وصل کی شب بھی اگر ہاں ہے نہ ہوں ہے یوں ہے
صرف تخلیق نہیں جان و جگر ہے جاناں
میرا ہر شعر مرا قطرہ ء خوں ہے یوں ہے
اصل اک ذات تھی اللہ کو دکھانی یارو
یہ ہی تو معاملہ ء کن فیکوں ہے یوں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






