میں گُوندھتا تھا مودت بھری تراب ِ سخن
Poet: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی By: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی, houstonنہ وہ عروج تخیل نہ آب و تاب سخن
ملے گا تشنہ لبوں کو کہاں سے “آبٌ سخن”
چڑھے جو اس کا نشہ ختم ہو نہیں پاتا
ظروف ِ حرف میں بھرتا جو ہوں “شراب سخن “
جو درد ِ خامشی حد سے پڑھا تو کیا کرتا
میں بے زبان بھی کر بیٹھا ارتکاب سخن
ضریح ِچاہت و الفت بنا ہی لی آخر
میں گُوندھتا تھا مودت بھری تراب ِ سخن
میں ڈگمگا سا گیا ، فکر کے مصلے پر
کہ سوچتا تھا کمالوں گا کچھ ثوابِ سخن
حضور آپ کا مجھ سے مقابلہ ہی نہیں
میں ایک ذرہ ہوں اور آپ آفتاب ِ سخن
خیال چونچ میں لے آئے طائر الہام
مجھے عطا ہوئی رب سے جو یہ کتابِ سخن
وہ کم سخن تو مری نیند تک پہ غالب ہے
دِکھا رہا ہے حسیں پھر سے ایک خواب ِسخن
یہ کس نے چھیڑ دی تاریں ، حسیں خیالوں کی
بجا رہا ہوں کھڑا کب سے میں رباب سخن
زمین ِ حرف میں مفتی جو بویا تُخم خیال
کھِلا ادب کے چمن میں نیا گلاب ِسخن
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






