میری آنکھوں کو کناروں تک بھر دے
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL, Gujranwalaاے خدا ! اُس کے غم مجھے دے دے
اُس کی تکلیف اور الم مجھے دے دے
میری آنکھوں کو کناروں تک بھر دے
اُس کے درد و نم مجھے دے دے
اُس کو پانے کی آس میں ڈُوبے ہوئے
ساری کائنات کے بھرم مجھے دے دے
دنیا کی بھیڑ میں گھبرا سا جاتا ہے
بڑا نادان ہے میرا صنم مجھے دے دے
خدایا ! ترے خزانے میں نہ کمی آئے گی
وہ شخص کم سے کم مجھے دے دے
نہال کے سسکتیں ہونٹوں کی دعا سُن لے
اُس کی پُر آب چشم مجھے دے دے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






