شک کی دیمک چاٹ گئی اسے
Poet: Minhas By: Farasat ali, Lahoreشک کی دیمک چاٹ گئی اسے
اس کے دل میں پیار کا جو بیج بویا میں نے تھا
نفرت کی آگ نے جلا دیا ہے اسے
پیارکامحل جو دل میںسجایامیں نے تھا
آج محبت پہ وہ شخص کتابیں لکھ رہا ہے
جس کو پیار کرنا سکھایا میں نے تھا
اپنی غزلوں میں وہ مجھے بیوفا لکھتا ہے ،منہاس
وفا کا سبق جس کو پڑھایا میں نے تھا
اب میرے ہی حال پہ ہنستا ہے مل کر رقیب سے
مسکراناجس کو سکھایا میں نے تھا
آج وہ نازاں ہے کہ زمانہ اس کے ساتھ ہے
کل وہ تنہا اداس تھا تو ساتھ نبھایا میں نے تھا
اج جو آسمان کو چھونے کے خواب دیکھ رہا ہے منہاس
کل خاک پہ گرا تھا تو اٹھایا میں نے تھا
اتنا سنگدل ہے کہ مجھے دیکھ کر کہتا ہے زمانے بھر سے
یہ زندہ لاش دیکھو اس کو محبت کا زہر پلایا میں نے تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






