میری آنکھیں
Poet: Mohammad Sadiq Mushwani By: Mohammad Sadiq Mushwani, Quettaدیکھوگے کبھی آکے ستمگر میری آنکھیں
رو رو کے میں نے کردی ہیں پتھر میری آنکھیں
وحشت ہے اس قدر کہ کوئی دشت سا لگے
دیکھے گا بھلا کون اب جم کر میری آنکھیں
کہتا ہوں اب بھی تم سے ہاں پردے میں تم رہو
کردوگے کسی دن تم بے بصر میری آنکھیں
تجھ کو بربادیوں سے کوئی عشق ہے گویا
رکھو تم اپنے پاس پھر مر کر میری آنکھیں
پہلے تو میری آنکھیں تمھیں تھیں بڑی پسند
کہتے ہو اب تو چھبتی ہیں خنجر میری آنکھیں
کہتے ہو تم اک روز چلے آؤگے ملنے
شاید تب ہونگی خاک بے خبر میری آنکھیں
چپرے سے صادق دھوکے میں سب مبتلا رہے
دیکھی نہ کسی نے کبھی آکر میری آنکھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






