میری آواز پہ اک سانولی سی مرنے لگی
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanمیری آواز پہ اک سانولی سی مرنے لگی
وہ شوخ لڑکی بہت پیار مجھ سے کرنے لگی
مجھے یہ کہتی ہے تم مجھ سے ملنے آ جانا
کسی سے ڈرنا نہیں اور نہ ہی گھبرانا
تمھاری بانہوں میں سو جاؤں گی پری بن کے
کیا ہے پیار تو پھر کیسا تم سے شرمانا
محبتوں کے سمندر میں وہ اترنے لگی
میری آواز پہ اک سانولی سی مرنے لگی
نظر میں شوخی لبوں پر ہے مسکراہٹ بھی
کرے جو بات تو ہوتی ہے گنگناہٹ بھی
چلی وہ آتی ہے بل کھاتی اور لہراتی
چھنک چھنک لیے ہوتی ہے اس کی آہٹ بھی
جوانی اس کی تو اب اور بھی نکھرنے لگی
میری آواز پہ اک سانولی سی مرنے لگی
کبھی تو آنکھوں ہی آنکھوں میں بات کرتی ہے
کبھی زباں سے بیاں سب حالات کرتی ہے
ہے شوخ بھی وہ بہت اور چالاک بھی پوری
ہر ایک بات میں مجھ کو وہ مات کرتی ہے
بڑے حسین سے رنگ زندگی میں بھرنے لگی
میری آواز پہ اک سانولی سی مرنے لگی
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






