میری اس پیاری جھب سے آنکھ لگی
Poet: حسرتؔ عظیم آبادی By: غفور, Multanمیری اس پیاری جھب سے آنکھ لگی
اس سراپا عجب سے آنکھ لگی
عشق میں خواب کا خیال کسے
نہ لگی آنکھ جب سے آنکھ لگی
خواب میں بھی نہ دیکھا ہم نے لطف
کس سراپا غضب سے آنکھ لگی
جتنے خوش چشم ہیں زمانے میں
رہتی ہے میری سب سے آنکھ لگی
رات ہمسایوں کی نہ صبح تلک
میری افغان شب سے آنکھ لگی
یار آتا نظر نہیں آتا
ہے ادھر میری کب سے آنکھ لگی
رہتی ہے اس نگاہ کافر کی
رنجش بے سبب سے آنکھ لگی
مجھ کو مت دیکھ ہے بلا حسرتؔ
یار عاشق طلب سے آنکھ لگی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






