میری خموش محبت کو جان لینا کبھی
Poet: Dr.Zahid sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanمری خموش محبت کو جان لینا کبھی
میں ایک بات کہوں گا وہ مان لینا کبھی
تمھیں بتاؤں تمھارے لیے ہیں گیت مرے
تصورات کی دنیا میں تم ہو میت مرے
مہک تمھاری چراتے ہیں پھول گلشن میں
بنا تمھارے میں رہتا ہوں سخت الجھن میں
تمھارے پیروں کی خاطر گلاب لاتا ہوں
اداس ہوتا ہوں ، حسرت میں ڈوب جاتا ہوں
کہ مجھ سے دور ہو تم اور مل نہیں سکتی
کلی تمھاری وفاؤں کی کھل نہیں سکتی
میں سوچتا ہوں بھلا دوں تمھیں سدا کے لیے
یا مجھ سے ملنے چلی آؤ تم خدا کے لیے
تمھارے پیار کا اتنا ہی بس فسانہ ہے
کہ بن تمھارے مری زیست اک ویرانہ ہے
جو ہو سکے تو مجھے میل پر بتا دینا
یا فون پر ہی محبت ذرا جتا دینا
مری خموش محبت کو جان لینا کبھی
میں ایک بات کہوں گا وہ مان لینا کبھی
تمھیں بتاؤں تمھارے لیے ہیں گیت مرے
تصورات کی دنیا میں تم ہو میت مرے
مری خموش محبت کو جان لینا کبھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






