میری دل کی ارضی پر وہ قبضہ کرتے رہے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiمیری دل کی ارضی پر وہ قبضہ کرتے رہے
یہاں یہ مرغوب خیال اپنی حالتیں بدلتے رہے
جب بھی چنگاریوں نے کوئی گھر ڈھونڈا
تب شورش سے متحیر بادل گرجتے رہے
ہواؤں نے بھی کوئی انگڑائی رکھی تھی
سب سوکھے پتے میرے آنگن میں گرتے رہے
ساقیئے نے جام کا چھلکا بھی محسوس نہ کیا
اس طرح سے میرے آنسو تو گرتے رہے
کس غنیمت نے کی تھی نگرانی ہم پر
جو ہنگامے تھے دل میں وہ مچلتے رہے
ہر ملا تھا مفسد اپنے مفاد سے سنتوش
ہم تو سب کچھ تقدیر کا کھیل سمجھتے رہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






