میری طرف بھی ایک ستارہ جلیل ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااے کہکشاں نواز مقدر عقیل ہے
میری طرف بھی ایک ستارہ جلیل ہے
ہم پورے آفتاب کے قابل نہیں اگر
تھوڑی سی پیلی دھوپ ہو آنکھو ں سے علیل ہے
تو لفظ گر تو ہے تجھے شاعر کہیں گے جب
اک بے زبان حرف حسین و جمیل ہے
ان شاعرانہ باتوں سے جیتوں میں کیسے دل
لوگوں کو تو عزیز ہے عرصہ طویل ہے
اس زندگی میں الجھنیں لاکھوں سہی مگر
اب مشکلات وقت کا عرصہ قلیل ہے
اوروں کے واسطے تو بچھاتی رہی سدا
اب جس میں قید ہو گی مرا ہی وکیل ہے
ملزم کو ہر سزا سے وہ آخر بچا ئے گا
اپنی دلیل پر اسے حاصل دلیل ہے
وشمہ اس آفتاب میں جوہر ہے اس قدر
آ جائے جوش میں تو یہ دریائے نیل ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






