میری قلم کے آنسو ہے لفظ نہیں
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, gujranwalaمیری قلم کے آنسو ہے لفظ نہیں
محبت کے جگنو ہے لفظ نہیں
دیکھو یہ ترے شعور سے اُوپر ہے
دل سے دل کی گفتگو ہے لفظ نہیں
فقط قافیے ہی نہیں ملائے میں نے
معشوم شاعر کی آرزُو ہے لفظ نہیں
تنہائی میں ہزاروں باتیں ہوتی ہیں
کاغذ پے تو تُو ہے لفظ نہیں
آنکھوں کی نمی دیکھو ہونٹوں کی سسکیاں
درد ہی درد ہر سُو ہے لفظ نہیں
مان لو گے تو غنیمت سمجھو گا میں
میرے پاس بس آنسُو ہے لفظ نہیں
مہکتاں ہے جس سے یہ جیون میرا
سوکھے گلابوں کی خوشبو ہے لفظ نہیں
تھجے پانے کی دعائیں ہیں اِن غزلوں میں
میرے دل کی خآموش جستجو ہے لفظ نہیں
نہال تڑپتی کوہل لے جیسی ہے شاعری میری
سُننے میں جو صرف کُو کُو پے لفظ نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






