دل کے مکاں کو ہم نے حسیں بنا رکھا ہے
Poet: muhammad aqeel hazoory By: muhammad aqeel hazoory, karachiبسم اللہ الرحمٰن الرحیم
صلی اللہ علیہ وسلم
دل کے مکاں کو ہم نے حسیں بنا رکھا ہے
عشقِ مصطفٰی کا ہم نے دیپ جلا رکھا ہے
جسم و جاں سے توڑ کر عشقِ مصطفٰیؐ کے پھول
گلدسۃءعقیدتِ خیرالبشرؐ ہم نے سجا رکھا ہے
ہر روز دے کر قلب کو درودِمصطفٰیؐ کا غسل
مہمان خانہءخیرالانامؐ کو ہم نے پرنور بنا رکھا ہے
نفسِ امارہ کو پہنا کر عشقِ مصطفٰیؐ کا طوق
جسم و جاں کو ہم نے آقاؐ کا غلام بنا رکھا ہے
جسمِ بنجر کو درودِ مصطفٰیؐ سے سیراب کر کے
عشقِ خیرالورٰیؐ کا ہم نے چمن ا گا رکھا ہے
جلوہ افروز ہونگے اک روز تختِ دل پہ حضورؐ
اس لیے جسم میں ہم نے جاں کو بچا رکھا ہے
دیدارِ مصطفٰیؐ نصیب ہو گا قبر میں حضوری
اس لیے جسم کو ہم نے گور بنا رکھا ہے
صلی اللہ علیہ وسلم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






