میرے خط، میری یادیں، جلا دینا اب
Poet: دانش ارشاد By: Danish irshad, Gojraمیرے خط، میری یادیں، جلا دینا اب
کچھ بھول گئے تھے تم، کچھ بھلا دینا اب
چلو رہنے بھی دو اب اور نہ ضِد کرو
دل زخمی ہے تمہارا، مرہم لگا دینا اب
برسوں سے روک رکھے ہیں جو آنسو
انہیں چھپانا مت، کُھل کے بہا دینا اب
تجھے چھوڑ کے گئے تو بہت مجبور تھے ہم
ہو سکے تو معاف کرنا، چاہے سزا دینا اب
ضرورت نہیں تیری وفا کی ہمیں
اٹھا کے ہاتھ ہوا میں بس دعا دینا اب
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






