راتی خواب اندر سوہنی صورت تیڈی ول ول آندی ہائی
Poet: Sajid Bin Zubair By: Sajid Bin Zubair, Bahawalnagarراتی خواب اندر سوہنی صورت تیڈی ول ول آندی ہائی
خدو خال تیڈے حُسن دے قلم تے پرکار بنڑیندی ہائی
بھری محفل وچ جَد قدم توں دَھریہ
کیڈی ظالم اَکھ تیڈی وار کریندی ہائی
منہ کہیں پاسے وار کہیں پاسے
ساری محفل کوں مَجذوب کریندی ہائی
یاقوت تے مَرجان دی اَکھ ڈھولا
وَدی شہر دا شہر مَسمار کریندی ہائی
گَل اَکھ تے ساجد ناں مکُا چھوڑیں
وَدی حُسن دے جَلوے بِکھریندی ہائی
جہنوں ویکھ کے لوکی دَھاڑ دے ہِن
اِیویں بُلیاں تے ہاسا جھُلیندی ہائی
اوہدے حُسن کوں کیویں بُرقے چڑھاواں
جندی زُلفاں دی چھاں ہیٹھ پئی خَلقت کُرلیندی ہائی
توں خاک ہیں ساجد او سوہنا سجن چن ورگا
ایویں تَک تَک راہواں سجن دیاںمٹی ول ول منہ پئی کھاندی ہائی
کوئی بَن گیا رونق تیڈی بانہواں دی
کہیں حال دہائی پئی کرلیندی ہائی
میڈی ٹُٹ گئی تسبیح بختاں دی
جیہڑی ناں تیڈے دے منڑکے گُھمیندی ہائی
چَن تکیا میں حسرتاں دا کئی واری
تیڈے حُسن توں وَدھ کوئی دُوجا چَن نہ ثانی ہائی
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






