میرے رستے میں
Poet: Arib Hashmi By: Arib Hashmi, Kharianدل ہی دل ہو گئے دلدار میرے رستے میں
اب تو بکتے ہیں خریدار میرے رستے میں
وقفے وقفے سے جو اک بھیڑلگی رہتی ہے
منتظر ہوتے ہیں سردار میرے رستے میں
اپنے سر پر جسے یہ لوگ سجائے رکھیں
پڑی رہتی ہے وہ دستار میرے رستے میں
ایک ہی جست میں تجھ تک میں پہنچ سکتا ھوں
تیرے گھر کی ہے جو دیوار میرے رستے میں
شہر سے دور کہیں دشت میں جانا چاہوں
لیکن آجاتا ہے بازار میرے رستے میں
جیسے ہی مجھ کو مسیحا ہوں سمجھتے آرب
پڑے رہتے ہیں یہ بیمار میرے رستے میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






