مجھے خود میں لگتا ہے مجھے جینا اب آیا ہے
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaمیں نے ترا پیار جانِ جاں جب سے پایا ہے
مجھے خود میں لگتا ہے مجھے جینا اب آیا ہے
سجی زندگی میری ایسے صنم جیسے کوئی دلہن نئی ہو
تری وجہ سے ترے سنگ ہر خوشی خود ملی ہو
ترے حسن کی روشنی نے میرا اندھیرا مٹایا ہے
مجھے خود میں لگتا ہے مجھے جینا اب آیا ہے
لگے مجھے ہر پل ہی مہربان مجھ پہ خدائی ہوئی
خلوتِ غم مٹنے لگے ویرانیوں میں روشنائی ہوئی
پل پل میں بجتا ہے ساز گیت ملن کا گایا ہے
مجھے خود میں لگتا ہے مجھے جینا اب آیا ہے
دیکھوں جب جب چہرہ ترا میرے حسن میں نکھار آئے
چوموں میں ماتھا ترا صنم اتنا تم پہ پیار آئے
میرے خدا نے جیسے تجھے میرے لئے ہی بنایا ہے
مجھے خود میں لگتا ہے مجھے جینا اب آیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






