میرے ساتھ تم بھی دعا کرو
Poet: M.Z By: M.Z, karachiمیرے ساتھ تم بھی دعا کرو
یوں کسی کے حق میں برا نہ ھو
کھیں اور ھو نہ یہ حادثہ
کوئی راستے میں جدا نہ ھو
سرے شام ٹھری ھوئی زمیں
جھاں آسماں ھے جھکا ھوا
اسی موڑ پہ میرے واسطے
وہ چراغ لیکے کھڑا نہ ھو
مری چھت سع رات کی سیج تک
کوئی آنسوؤں کی لکیر ھے
زرا بڑھ کر چاند سے پوچھنا
وہ اسی طرف سے گیا نہ ھو
وہ فرشتے آپ تلاش کریں
کھانیوں کی کتاب میں
جو برا کھیں نہ برا سنے
کوئی شخص ان سے خفا نہ ھو
وہ فراق ھو کہ ویصال ھو
تیری آگ مھکے گی ایک دن
وہ گلاب بن کے کھلے گا کیا
جو چراغ بن کے جلا نہ ھو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






