میرے مہرباں تیرا شکریہ
Poet: rizwana By: rizwana, torontoمیرے مہرباں تیرا شکریہ
تو نے درمیرا سوا کیا
مجھے منزلوں کی تلاش تھی
تو نے راستے کا پتہ دیا
میں بھٹک رہا تھا جا بجا
تجھے پایا درد آشنا
میرے درد کی کوی دوا کر
میرے چارہ گر میرے راز داہ
تجھے چاہا میں مجبور تھا
سارا نظروں کا قصور تھا
کیا کرتا میں میری جان ے جاں
اس دل کا ہی قصور تھا
یہمرض ہے بس لادوا
جسے لگا یہ برا ہوا
دن رات کا تڑپنا
در ے محبوب ہے اب آستاں
اے عشق تیرا ہو بھلا
تونے رو یہ عجب دیا
اسے دیکھنا اسے چاہنا
میری جستجو کا یہی صلہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






