میرے ھونٹوں پہ جو تیرا نام مہکائے خوشبؤ
Poet: SHABEEB HASHMI By: SHABEEB HASHMI, Al-Khobarمیرے ھونٹوں پہ جو تیرا نام مہکائے خوشبؤ
رات بہکی ھے یہ جو پیغام سنائے خوشبؤ
پھر تری یاد کے ستارے فلک سے آن پہنچے
میری نیندوں میں تیرے خواب سجائے خوشبؤ
ہوا بھی تیرے آنے کا پتہ دے کر گزر جاتی ھے
یوں میری آنکھوں کو سر شام جگائے خوشبؤ
اور تیرے آنے کی خبر سن کے مچل جاتا ھوں
کہ وہی رنگ میرے چہرے پہ لے آئے خوشبؤ
سارے موسم بھی بڑے شوق سے تیری راہ دیکھیں
یوں میرے گھر کے دروبام بھی سجائے خوشبؤ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






