چلنا ھے انگاروں پر پاؤں بچا کے
Poet: ا ے ایس عارف By: ا ے ایس عارف, Mississaugaھم نے سیکھا زندگی سے عمر گنوا کے
کیسے اڑتے ھیں طیور مخالف ھوا کے
زھن تو رھا آزاد شومئی قسمت
بند کمر ے میں ھے قیدی پابند سزا کے
غنچہ ہستی سے ھو گئے ھیں غافل
بہار آتی ھے کبھی کیسے پاؤں دبا کے
ٹوٹے ھوئے پتوں سے یہ جانا ھم نے
خزاں سے بھلا کیا چاھیں امید بنا کے
کچھ تسکین ملی تھی دریا کنار ے
اشکوں سے مگر اپنی پیاس بجھا کے
تم آو گے جلد ھی خشبویں کہتی ھیں
منادی کرا دی ھے شہر کو سجا کے
وہ لیتے ھیں شب بھر کا امتحان ھمارہ
ھم لیٹیں گے کانٹوں کے بچھونے بچھا کے
مجھ کو مجھ سے ھی سدا کا مسئلہ ھے
ڈبو دینگیں سمندر میں اپنا ھیولا بنا کے
کیسی ھے جیون کی بساط یہ عارف
چلنا ھے انگاروں پر پاؤں بچا کے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






