میرے ہمسفر کے نام
Poet: نازيه حيدر By: Binte Shafi Haidar, Karachiچلو لکھتے آج تمہیں
تمہاری ذات کے ہر پہلو کا
بغور مشاہدہ کرتے ہیں
تمہارا چہرہ ، تمہاری آنکھیں
تمہارا ہنسنا، تمہاری باتیں
تمہارا انداز سے نظر اٹھانا
تمہارا دھیمے سے مسکرانا
تمہارا ا اندازِ تکلُم
تمہارا اندازِ تفکُر
قلم اٹھائیں اور آئو لکھ دیں
ذات تمہاری،وجود تمہارا
لکھ تو دیں
اے جانِ نازی
مگر مشکل تو اس بات کی ہے
تمہیں کوئی اک نظر بھی دیکھے
تمہیں کوئی اک حرف بھی پڑھ لے
میرے دل کو ہر گز گوارا نہیں
اس قلم سے مجھے جلن ہوتی ہے
جس سے تمہارا اک حرف بھی ابھی اتارا نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






