اپنی ہی خواہشوں پر قربان ہوگی

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

 ہر صبح شام دل میں تلاوت دعا دیے ہیں
کرتی ہوں میں تو جتنی عبادت خدا دیےہیں

دل میں چھپا ہوا ہے اک درد کا خزانہ
آغوش میں قضا کی شاہد دعا دیے ہیں

کیا جانے تو مسیحا یہ زخم ہے پرانا
تیرے کرم سے کل دنیا یہ بسا دیے ہیں

یہ حسن یہ بہاریہ تاروں کی روشنی ہیں
ایک سے بڑھ کر اک نظارے کھلا دیے ہیں

اپنی ہی خواہشوں پر قربان ہوگی
دل پہ مرے بھی کب سے حکومت خدا کیے ہیں

یارب گماں کو وسعت ایمان بخش دے ہیں
آنکھوں کو شرم کا مر ی جزدان ادا کیے ہیں

میری زباں کو یہ دے تاثیر لامکاں دے
اور دل کو عدل کا پیما ن بنا دیے ہیں

بھٹکا سکے نہ کوئی منزل سے اے خدا وہ
میرے گماں کو رستے پہچان بخشا دیے ہیں

دنیا کی چاہتوں کا بسیرا ہے قلب میں ہیں
تو اپنے عشق کا یہ وجدا کھلا دیے ہیں

دیکھا جو عرش سے تو فرشتوں نے یہ کہا ہیں
سو بار نور کو بھی بڑھ کر بسا دیے ہیں

اشعار کی زباں میں وشمہ کو دیکھا ہیں وہ
بے ربط دل کہ بہکی ہوئی یہ بنا دیے ہیں

Rate it:
Views: 600
21 Jun, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL