میں آج بھی تم کوچاہتاہوں۔۔۔۔۔پہلی قسط
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamیہ بات دھراتےہوئےشرماتاہوں
اتنی سی بات کہہ نہ پاتاہوں
لوابھی وہ الفاظ دھراتا ہوں
میں آج بھی تم کو چاہتاہوں
یوں آغاز محبت کرتا ہوں
کچھ کہنےسےبھی ڈرتا ہوں
یہ سچھ لو کےتم پہ مرتاہوں
تمیں دل کی بات بتاتاہوں
میں آج بھی تم کوچاہتاہوں
پیار کاایک سمندرہوتم
اپسراؤں سےزیادہ سندرہوتم
میرے من مندر ہو تم
یہ کہتےہوئےگھبراتا ہوں
میں آج بھی تم کوچاہتاہوں
میرےتصورمیرےخیالوں میں تم
میری خلوتوں وجلوتوں میں تم
میرےاندھیروں واجالوں میں تم
میں تمیں کبھی بھول ناپاتاہوں
میں آج بھی تم کوچاہتاہوں
میری زندگی کا خواب ہو تم
میری آنکھوں کا سراب ہو تم
میرےپیار کا مہتاب ہوتم
چھوناچاہوں توچھو ناپاتاہوں
میں آج بھی تم کوچاہتاہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






