میں اور محبت
Poet: ایمان شہزاد By: ایمان شہزاد, Islamabadآخری نمبر پہ کھڑی ہوں اس لمبی قطار میں
دن ڈھلنے کو آیا ہے وصلِ جانم کے انتظار میں
جب اس سے ملوں گی
پھر کچھ نہ کہوں گی
اس کے چہرے کے
نقوش و نگار کو
نگاہِ چاہ سے
یوں سراہوں گی کہ
لمحے بھر کو وہ بھی
محوِ تصور ہو جائے گا
اپنے سراپائے حسن کے دیدار میں
انمول ہے وہ دنیا میں ..یہ اسکو احساس دلاؤں گی
کر کے حاوی اپنا جنون اس پر
پھر آہستہ آہستہ اسے حقیقت میں لاؤں گی
پھر اسکے احساسات و جذبات کو روند کر
اس سے لاتعلقی کر کے آگے بڑھ جاؤں گی
کیوں کہ
یہ دنیا ہے میاں !....کوئ جگۂ وفا نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






