میں ایک شبنم کا تازہ قطرہ پڑا جو گل پر
Poet: N A D E E M M U R A D By: N A D E E M M U R A D, UMTATA RSAمیں چھوٹے چھوٹے ہزار خانوں میں بٹ گیا ہوں
میں ایک جاں تھا ہزار جانوں میں بٹ گیا ہوں
وہ دن بھی کیا دن تھے بولنا تک نہ جانتا تھا
اور آج اپنے کئی بیانوں میں بٹ گیا ہوں
میں خام آہن تھا تیر مجھ سے گھڑے گئے ہیں
فقط تپا ہی نہیں کمانوں میں بٹ گیا ہوں
میں اک وطن تھا اگرچہ آبادیاں تھیں لاکھوں
وہی ہوں اپنے نگاہ بانوں میں بٹ گیا ہوں
میں ایک شبنم کا تازہ قطرہ پڑا جو گُل پر
تو دُھوپ کے خوف سے گمانوں میں بٹ گیا ہوں
میں ایک دولت تھا بے بہا نعمتوں کا منبع
اور آج بس چند خاندانوں میں بٹ گیا ہوں
ندیم میرا وجود ہے تار تار اتنا
کئی زمانوں کی داستانوں میں بٹ گیا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






