میں بُلبل تھی شوخ چنچل تیر ی محبت سے
Poet: Rukhsana Kausar By: Rukhsana Kausar , Jalal Pur Jattan, Gujratمیں بُلبل تھی شوخ چنچل تیر ی محبت سے
جس سے فقط خوشیوں کی صدا آتی تھی
پھول تیری محبت کے گردشِ بہار میں بھنورے ہوئے تھے
تیری نسبت سے گویا خوشبوئے گلاب آتی تھی
رتجگے کی اذیت کہ تیرے ہجر نے بجھاکے رکھ دیا
تیری ذات سے ہی میری ہستی میں گمانِ صبح آتی تھی
مٹایا تھا خود اپنا آپ فقط تیری خاطر
کیا اندازہ نہ تھا تجھے تجھ سے میری زندگی کی ردا آ تی تھی
پھر یو ں کہ بلبل غمِ ہجراں سے چُپ سی ہو گئی
جس کے اندر شام بھی بن کے صبح جاوداں آتی تھی
تیرے ہجر میں وہ مرگِ محبت کا کفن اوڑھنے کو ہے
جس کو وفا نبھانے کی ہر ادا آتی تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







