میں سر خرو ہوں پیار کا صدقہ اتار کر
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاقسمت کا اپنے ہاتھ پہ تارا اتار کر
میں سر خرو ہوں پیار کا صدقہ اتار کر
اس زندگی کی سیج پہ مشکل ہے جی سکوں
کانوں سے تیرے پیار کا جھمکا اتار کر
اب مطمئن ہے میرے بھی آنگن میں مفلسی
کچھ خواہشوں کا جسم سے دھبہ اتار کر
وہ رفتہ رفتہ اپنا ہی رستہ بدل گیا
بھیجا تھا جس نےپیار کا نقشہ اتار کر
میں آپ اپنی ذات میں مسحور ہو گئی
اپنے لبوں پہ عشق کا نغمہ اتار کر
اب زیبِ طاق و بام ہیں ہجرت کے سب چراغ
دیوار و در سے درد کا دھبہ اتار کر
ٹھہرو ذرا میں روح کی چادر سمیٹ لوں
شہرِ جفا میں زندگی وشمہ اتار کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






