بھولے ہوئے رواج کی تاثیر دیکھئے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیابھولے ہوئے رواج کی تاثیر دیکھئے
بگڑے ہوئے مزاج کی تشہیر دیکھئے
آنکھوں میں بن رہی ہے محبت کی یادگار
خوابوں میں میرے پیار کی تعمیر دیکھئے
کرنا وہ چاہتا ہے مرے پست حوصلے
پاؤں میں میرے جبر کی زنجیر دیکھئے
وہ قتل گاہ میں آ گیا ہے میرے سامنے
ظلم و ستم کی چار سو شمشیر دیکھئے
چمکا ہے چاند آج در و بام پر اگر
چہرے پہ میرے درد کی تنویر دیکھئے
دل بیقرار تھام کر وشمہ نہ بیٹھئے
پیوست میرے سینے میں بھی تیر دیکھئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






