میں سو نہ سکی
Poet: Gul.Naeemuddin By: Gul.Naeemuddin, Islamabadوہ بچی تھی
چھوٹی سے پیاری سی
میری نواسی عالی جیسی
اپنے باپ کی گود میں سہمی سی
نرم و نازک کونپل کی طرح لرزاں
وہ کھیل رہی تھی ہنس رہی تھی
اپنی دادی کی گود میں چند لمحے پہلے
اپنی ماں کو شرارت سے چڑاتی ہوئی
دادی کی گود میں میٹھی چوری شوق سے کھاتی ہوئی
اب وہ ، رو رو کر خاموش ہے اپنے باپ کی گود میں
سر سے بہتا خون ، جسم سے رستا خون
اس کے کپڑوں کو بھگوتا اس کی ایڑیوں تک پہنچا ہے
غزہ کی سڑک پر ایک لمبی لکیر ،
سرخ رنگ کے قطروں کی دور معدوم ہوتی جاتی ہے
وہ ننھی معصوم پیاری سی بچی،
قطرہ قطرہ خالی ہوتی ہے ۔
آنکھیں بند ہوتی ہیں
میری آنکھیں بھی دھندلی ہوتی ہیں
قطرہ قطرہ وہاں خون ہے یہاں آنسو ہیں
وہ ننھی پیاری معصوم بچی سو گئی
ہسپتال پہنچنے سے پہلے، اک ابدی نیند میں
وہ ننھی پیاری معصوم بچی
میری نواسی عالی جیسی
میں سو نہ سکی، انسانوں کے ظلم پر
جو وہ کرتے ہیں اپنے بچوں کے امن کی خاطر
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






