میں کیا بتا ؤں گا
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaچھوڑ کے تو مجھے جا رہی ہو تم
اگر کوئی تیرے بارے میں پوچھے گا تو
میں کیا بتا ؤں گا
وہ جو تیرے ساتھ رہا کرتی تھی
جس سے تُو محبت کرتا تھا
آج کل وہ دیکھائی نہیں دیتی
وہ تو ہر پل تیرے ساتھ رہا کرتی تھی
اکثر وہ تجھے اپنا سا یا کہا کرتی تھی
کیا ہوا نہال تیرا وجود کہاں ہے
پوچھے گے مجھ سے تیرا محبوب کہا ں ہے
تیرے بارے میں پوچھے گے
یہ گُل یہ ستارے
یہ منظر یہ نظارے
ان کے سوالوں سے میری جان جائے گی
اور تیر ی یاد بھی آئے گی
کومل نہا ل کو کیسے پتھر ہونا ہے تُو سلیقہ تو بتا دے
کیسے دوں گا جواب میں کوئی طریقہ تو بتا دے
جب کوئی پوچھے گا کیوں جدا ہوئی وہ
وفا دار تھی پھر کیوں بے وفا ہوئی وہ
نہال تیرے گلشن میں تو مستقل بہار تھی وہ
پھر بہار سے کیسے خزاں ہوئی وہ
مجھے تُو ہی بتا دے جانم تیرے جانے کے بعد
کسی نے جانے کا سبب پوچھا تو میں کیا بتاؤں گا
میں کیا بتاؤں گا
میں کیا بتاؤں گا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا






