میں ہوش میں ہوں مری اس سے گفتگو کرتے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیامیں ہوش میں ہوں مری اس سے گفتگو کرتے
قرار کیسے ہو مجھ کو وہ روبرو کرتے
فضا میں پیاسے پرندوں کی ہے بقا مشکل
سفر ہے دور کا رستے میں آب جو کرتے
یہ دل میں شوق ملاقات ہے کہ حسرت ہے
وہ دور بھی ہے مری اس کو آرزو کرتے
یہ کس ویرانے میں آ کر بسیرا کر ڈالا
رفیق ڈھونڈیے کیا اس جگہ عدو کرتے
یہ گفتگو میں تفاخر ، یہ خود نمائی تری
چراغ میں ہوں اگر آفتاب تو کرتے
نہ ہو سکے گا عیاں تم پہ میرا حال کبھی
لبوں پہ آہ نہیں آنکھ میں آنسو کرتے
نہ اعتراف ہنر کی کسی سے امیدیں
نمایاں خود کو جہاں میں کریں یہ خو کرتے
چھپے خزانوں کا ملتا سراغ کیسے بھلا
خبر بھی پائی نہیں ان کی جستجو کرتے
خمار کے لیے ترسے ہیں آج ہم وشمہ
نہ مست آنکھیں ہیں ساقی کی اور سبو کرتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






