نئی الفتوں کی ابتدا کرنے والے
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, rawalpindiنئی الفتوں کی ابتدا کرنے والے
شکریہ جانے جاناں وفا کرنے والے
اب خلوتوں کو ہی جانا پڑے گا
وہ پھر لوٹ آئے نبھا کرنے والے
اب پہلے ہی دل توڑ کر دیکھتے ہیں
نئی دوستی کی ابتدا کرنے والے
کر رہے ہیں بے چینی بے یقینی میں سجدے
تجھے بھولنے کی دعا کرنے والے
اب نئے راستے ہیں نئی منزلیں ہیں
دیکھ کر چلنا تم بھی خطا کرنے والے
میری ہے دعا رہو سدا تم سلامت
مجھے دیکھ کر بد دعا کرنے والے
ذرا غم کے ماروں کا مقام تو دیکھو
الفت و دولت و درد عطا کرنے والے
اشتیاق تجھے کتنا انمول خزانہ ملا ہے
کہ تجھے دل دیا ہے جفا کرنے والے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






