نئے عنوان سے
Poet: fauzia By: fauzia, rahim yar khanنہ میری فکر کرے گا نہ مجھے یاد کرےگا
نہ میرا ذکر کرے گا نہ میری بات کرےگا
اب وہ جس سے بھی ملاقات کرےگا
سخن کا آغاز کرےگا
انجاے میں نہ آجائے نام زباں پر کرےگا
محتاط لہجے میں بھی احتیاط کرےگا
فصل گل کا بھی نہ رہے منتظر دل اسکا
وہ ایسے بہاراں چہرے کا انتخاب کرےگا
راگ سنائے بھنورا نئی نویلی کلیوں کو
پژمردہ کلی کی خاطر کون بھلا پرواز کرےگا
لمحہ بھر کو مل جاو گےزندگی بھر ساتھ نہ دو گے
اک پل خوش کی خاطر عمر کون برباد کرےگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






